email contact home
search

انسان طبعا معاشرت پسند ہے وہ اپنی پیدائش سے لیکر تادم زیست بے شمافراد کی خدمات اور سہاروں کامحتاج ہے اپنی پرورش اور تعلیم وتر بیت کی ضروریات کیلئے نہیں بلکہ اپنی فطری صلاحیتوںکے نشو وارتقائ اور انکی عملی اظہار کیلئے بھی وہ اجتماعی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے یہ اجتماعی زندگی اس کے گرد تعلقات کا وسیع تانابانا تیا ر کر تی ہے خاندان برادری محلے شہر اور بحیثیت مجموعی پور ی نو ع انسانی تک پھیلے ہوئے تعلقات کے یہ چھوٹے بڑے دائرے اس کے حقوق وفرائض کا یقین کرتے ہیں ماں باپ بیٹے شاگرد استادخریدار اور حکمران کی بے شمار مختلف حیثیتوں میں اس پرکچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور ان فرائض کے مقابلے میں وہ کچھ متعین حقوق کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ان حقوق میں بعض کی حیثیت محض اخلاقی ہوتی ہے مثلا بڑوں کا حق ادب ‘ چھوٹوں کا حق اشفقت ‘ ضرورت مند کا حق امدادوغیرہ اور بعض کو قانونی تححاصل ہوتی ہے مثلا حق ملکیت ‘حق اجرت وغیرہ یہ ایسے حقوق ہیں حن کا تعلق کسی مفاد سے ہوتا ہے اور ملک کا قانون اس مفاد کو تسلیم کرکے اسے عدلیہ کے ذریعہ قابل حصول بنا دیتا ہے قانونی حقوق یا مثبت حقوق کہلاتے ہیں۔

 
Image Gallery